وفاقی حکومت کی جانب سے شورش زدہ شمال مشرقی صوبے خیبر پختونخوا میں ہنگامی حالت کے نفاذ اور صوبائی حکومت کی معطلی کے بعد
پاکستان میں سیاسی کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے ۔ حکام نے سابق وزیرِ اعظم عمران خان کی جماعت سے تعلق رکھنے والے ایک صوبائی وزیرِ اعلیٰ اور ان کی کابینہ کے بعض ارکان کو احتیاطی حراست میں لے لیا ہے۔
وفاقی وزیر طلال چوہدری نے پیر کے روز خبر رساں ادارے روئٹرز سے گفتگو میں تصدیق کی کہ وزیرِ اعلیٰ سہیل آفریدی اور ان کی کابینہ کے کچھ ارکان کو حراست میں لیا گیا ہے۔ ان کے مطابق یہ کارروائی اتوار کو عمل میں آئی۔